سکینہ کی عزت بچانے کے لیے موسیٰ نے اپنی زندگی داؤ پر لگا دی۔ اس کو بھی احساس ہو چکا ہے کہ نکاح سے زیادہ مضبوط اور کوئی رشتہ نہیں اور بھائیوں سے بڑھ کر محافظ بھی کوئی نہیں۔

اس نے نہ صرف عیسیٰ کو قبول کر کے لیا بلکہ موسیٰ کے لیے پریشان ہے جس نے وعدہ دے کر کے اس کا منہ بند رکھو آیا ہے کسی کو کچھ نہ بتائے
ادھر سکینہ کے مجرم ہوش میں آنے کے بعد نامراد کے دوستوں کے خوف سے بیان بدل لیتے ہیں کیونکہ وہ موسی کو نہیں جانتے اور دوسری طرف زہرہ ملک شہریار کی چال میں آ کر شادی کے لیے حامی بھر لیتی ہے۔ ادھر نامراد جیل میں آکر موسیٰ کو بتاتا ہے کہ وہ بے وفا کسی امیر زادے کی ڈولی میں بیٹھ کر چلی گئی تجھ جیسے ہیرے کی قدر نہ کی۔ موسیٰ کے دل پر چھریاں چلتی ہیں کہ زہرا نے سامنے نہ آنے کا وعدہ لیا ہے، نہیں تو جا کر پوچھتا میری محبت میں ایسی کیا کمی نظر آئی کیسے اسے ٹھکرا کر کسی اور کے ساتھ چلی گئی۔ موسیٰ اب کسی سے نہیں ملنا چاہتا یہاں تک کہ عیسیٰ جب اسے جیل سے لینے پہنچتا ہے تو وہاں موسی کو نہ پاکر فکرمند ہو جاتا ہے اور اگر سکینہ کو بتاتا ہے کہ پتا نہیں کہاں چلے گئے۔ نہیں جانتا محبت میں چھوڑ جانے کے بعد اپنے باپ کے ٹھکراۓ جانے کے بعد اب کسی کا سامنا نہیں کرنا چاہتا۔ نامراد کے ساتھ اس کے گھر چلا جاتا ہے اور وہی پر رہتا ہے۔ نامراد کے غنڈے دوست کے ساتھ بھی موسی کی دوستی ہو جاتی ہے۔ جس کے بعد اسے بھی سدھارتا ہے توبہ کرواتا ہے۔

زہرا کی ملک شہریار سے شادی

زہرہ جس نے ملک شہریار سے شادی کر لی تھی اپنی ماں جی کی حویلی کو بچانے کے لئےلیکن یہ نہیں جانتی تھی کہ شہریار نے جتنا پیسہ اس پر۔ لگایا ہے اب اس سے زیادہ کمانا چاہتا ہے۔ بڑے لوگوں سے زہرہ کا تعارف کرواتا ہے ہے اور اپنا کام نکلوا سکے۔ زہرہ کو شروع شروع میں اندازہ نہیں ہو سکے گا کہ ملک شہریار نے شادی کیوں کی نہ تو اسے محبت ہے زہرا سے اور نہ کوئی دیوانگی۔ اسے رہ رہ کر اپنا وہ دیوانہ یاد آتا ہے جو اس کی محبت میں اسے ہی چھوڑ کر چلا گیا۔

شہریار کی اصلیت

شہریار کی اصلیت زہرا پر جلد ہی کھل جائے گی۔ اسے موسی کے ساتھ کی جانے والی زیادتیوں کا افسوس ہوگا۔ یہاں تک کہ شہریار نے کھل کر اپنے ارادے زہرا کے سامنے رکھ دیے کسی زہرا ماننے سے انکار کر دیتی ہے۔وہ شہریار کے نکاح میں ہوتے ہوۓ کسی غیر مردوں کے ساتھ نہیں جاسکتی۔ اس کی دوستی ملک شہریار کے دوست کی بیوی لیلیٰ سے ہو جاتی ہے۔ ان کی ملاقات بھی پارٹیز میں ہوتی ہے اور یہاں سے موسیٰ اور زہرہ کا ساتھ ایسے بنے گا کہ موسیٰ لیلیٰ کے گھر پر کام کرے گا شاید ڈرائیور بن جائے۔ یہاں سے موسی کی محبت اور جنون کا علم لیلیٰ کو بھی ہو جائے گا۔ ادھر ملک شہریار نے تو عزت دار کوٹھا بنارکھا ہے۔ ملک شہریار نے اپنی اوقات دکھانا شروع کر دی۔ انتہا کر دیتا ہے۔ زہرا اس کی بات ماننے سے انکار کر دیتی ہے، تو اسے مارتا پیٹتا ہے۔ مردوں کے آگے نوالے کی طرح پھینکتا ہے تاکہ بزنس میں ترقی کرسکے۔ اور زہرا پر لگایا پیسے ڈبل وصول کر سکے۔ ایک ایسے ہی دن زہرا سیٹھ کی ہوس سے بچنے کے لیے دل سے موسی کو آواز دیتی ہے۔ موسیٰ وہاں سے بچانے پہنچ بھی جاتا ہے کہ زہرہ کو احساس ہو جائے گا کہ موسیٰ سے عزت اور محبت دونوں دینا چاہتا ہے لیکن اس سے پہلے زہرہ کو موسی کی محبت کرنے کی سزا تو ملے گی۔

زہرا اور موسی کا ملن

موسیٰ کے ملنے کے بعد زہرا کو احساس ہوگا کہ موسی کی محبت کی پہلی شرط ہی زہرا کی عزت تھی۔ آگے بڑھ کر ہاتھ لگانے کی یہ تنگ کرنے کی کوشش نہیں کی تھی۔ صرف ایک مطالبہ کرتا تھا عزت کے ساتھ شادی کرنا چاہتا ہے ۔اسے اپنی عزت بنانا چاہتا ہے۔ اب زہرہ پچھتائے گی پوری دنیا میں اسے موسی جیسا مرد نہیں ملا۔ ملک شہریار سے پیچھا چھڑانے کے بعد زہرا پیر قدرت اللہ کے دربار پر پہنچ جاتی ہے۔ اس کے باپ کو بھی احساس ہو گا کہ عزت دینے والی اللہ کی ذات ہے۔
وہ سچ میں زارا سے محبت کرنے لگتا ہے پھر بہت پچھتاتا ہے لیکن اس کے پچھتانے کا کوئی فائدہ نہیں۔ زہرا کی ماں کے ساتھ کیا ہوا وہ بھی راز کھلے گا کون کون سی ذات کے ساتھ اس کی ماں کو بیاہ کر لے گیا

ستارہ کی موت

موسیٰ کی جدائی ستارہ کو جیتے جی مار دیتی ہے۔ وہ موت کو قبول کر لیتی ہے بے وفائی کو نہیں۔ اس کے ماں باپ کوشش کرتے ہیں اس کی شادی کہیں اور ہو جائے۔ اسی طرح کامران ایک بار پھر سکینہ کو ملنے کے لئے بلاتا ہے۔ وہ کامران کو اپنی محبت سے آزاد کرنے جاتی ہے۔ میں اس سے محبت کرنے لگی ہوں میرا تم سے کوئی واسطہ نہیں۔ اس لیے دوبارہ مجھے فون نہ کرنا اور نہ ہی ملنے کے لیے بلانا۔ وہ کامران کو خدا حافظ کہہ رہی ہوتی ہے۔ اس وقت اس اس کے پیچھے عیسیٰ اس تک پہنچ جاتا ہے۔ اس کی غیرت گوارہ نہیں کرتی اس کی بیوی کسی غیر مرد سے مل رہی ہے۔ اس سے کہتا ہے میں نے تم دونوں کو موت کی سزا سنا دی۔ اس سے پہلے عیسیٰ کے ہاتھ کامران اور اس کے خون سے رنگتے۔ موسیٰ وہاں پہنچ جاتا ہے اور اس کو روک لیتا ہے۔
تمہیں چھوڑ کر اپنی محبت کے ساتھ جانا چاہتی ہے تو تمہارے سامنے ہاتھ جوڑتا ہوں اسے جانے دو۔ سکینہ عیسیٰکے پیر پکڑ لیتی ہے، میں تمہیں چھوڑ کر کہیں نہیں جانا چاہتی۔
میں تم سے محبت کرتی ہوں۔ میں اپنی محبت سے آزاد کرنے آئی تھی ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here