ڈرامہ سیریل خدا اور محبت سیزن تھری جس کا سب کو بے صبری سے انتظار تھا اب ان کو اس بات کا سسپنس ہیں اور جاننا چاہتے ہیں کہ اس کی مکمل کہانی کیا ہوگی کیا ماہی کو بھی فرہاد کی طرح اس سے عشق ہو جائے گا میں تو مذاق مذاق میں پڑھنا سے دوستی کرلی لیکن فرہاد کی دوستی تو بدل گئی محبت میں دل لگی اب دل کی لگی بن گئی وہ ماہی تک پہنچنے کے لئے اس کے گھر تک آ چکا ہے اتنا گل نثار صاحب کی سفارش کی وجہ سے اسے کام پر بھی رکھ لیا گیا یہ نثار صاحب کی طرح رحم دل نہیں فون خراب ہو تو جیسے ان کی وراثت میں ہوں خاص طور پر ماہی کا بھائی چھوٹے شاہ صاحب غصے کا بہت تیز ہے اس خاندان کے عورتوں پر پردے کی اتنی سی ہے کہ وہ باہر اپنی مرضی سے نہیں نکل سکتی تی سکتی

 

فرہاد کا ماہی سے اظہار محبت

مگر کسی کو کیا خبر ان کے گھر کی بیٹی سے فرہاد کو محبت ہو چکی ہے اور محبت اسے ماہی کے گھر تک لائی ہے وہ سبھی افراد پر بہت اعتبار کرتے ہیں ایک دن جب شاہ صاحب کے کہنے پر فرہاد ماہی کو پک کرتا ہے تو میں اسے دیکھ کر حیران تھی فرہاد کی موجودگی پائیں تو ماحول سے جانے کا کہتی ہے اور اگر میرے بھائی کو ذرا بھی شک ہو گیا کہ تم کس نیت سے یہاں آئی ہوں تمہاری لاش ہیں اس حوالے سے واپس جائے گی تو پھر بھی اسے صاف صاف کہہ دیتا ہے موت سے نہیں ڈرتا ماہ تمہاری جدائی سے ڈرتا ہوں جس کے بعد جواب کے بہانے اس کی ملاقات ماہی سے ہوتی گئی کبھی ماہی ٹیرس پر ہوتی تو میرا دل سے مسکراتے دیکھتا کبھی وہ ایک دن موقع دے کر ماہی محبت کا اظہار بھی کر دیتا ہے مگر بمعہ فرہاد کی آزار محبت کو سیریس نہیں لیتی جسے تم محبت کہتے ہو یہ جذبات بہت سستے بکتے ہیں اس ڈرامے کی اصل خوبصورتی ہی ہے فرہاد میں کس طرح ماہی سے عشق کیا یہی عشق ہے سے خالق حقیقی تک لے گیا ابھی تو راکھ ہوئے ہیں تیرے فراق میں ہم کھیل باقی ہے فرہاد ماہ سے اپنی محبت کا اظہار کرتا گیا ماہیا سے روکتی رہی کیونکہ اپنے خاندان کی روایت کو اچھی طرح جانتی تھی کہ ادنیٰ سے دیکھتے ہیں دھڑکنے لگ جاتا جب بھی میں تمہیں دیکھتا ہوں میرا دل زور زور سے دھڑکنے لگتا ہے جو مجھے چیخ چیخ کر بولتا ہے تم ہی ہو گی فرہاد نے جمعہ سے پھر اپنی محبت کا اظہار کیا تو وہ صاف صاف کہہ دیتی ہے پاگل مت بنو مجھ پر رحم نہیں کھا رہے تو خود تو کھاؤ اور ہاتھ میں بھی ایسے دوٹوک کہ دیا جسے تم چار دن کی دل لگی کہہ رہی ہوں وہ میرے دل کی لگی بن چکی ہے دوسری جانب فرہاد کی ماں اپنے بیٹے کی وجہ سے بہت پریشان ہے اس کو دیکھنے کے لیئے آنکھیں ترس گئی ہو

ماہی کے لیے تیمور کا رشتہ

 اب اسی دوران ماہ کے لیے تیمور کا رشتہ آتا ہے جب خادم صاحب نے دیکھا کہ یہ لوگ تو بہت کھاتے پیتے گھرانے کے ہیں یہاں سے بہاولپور کے شاہ صاحب اور ملتان کے جاگیردار اور جب یہ رشتہ آیا تو ماہی کے دل میں فرہاد کے لیے جگہ بن گئی اسے تو خود بھی خبر نہ ہوئی کا وظیفہ اچھا لگنے لگا مہینے ہزار بار فرہاد کو واپس جانے کا کہا مگر فرہاد اس کی ایک بھی نہیں سنتا میں تب تک یہاں سے نہیں جاتا جب تک میں صحیح طریقے سے دیوانہ نہیں ہو جاتا ہےجوڑ کر اسے معافی بھی مانگی جب ماہی کا یہ رشتہ آیا تو پوری حویلی کو معلوم ہو چکا تھا جس شان و شوکت سے تیمور کی والدہ یہ رشتہ لے کر ایسے بھی دیکھ کر دنگ تھے اور تب اس معاملے کی خبر فرہاد کو بھی ہو جاتی ہے اسے جب یہ معلوم ہوتا ہے اس کے پیروں تلے سے زمین نکل جاتی ہے وہ ہے جس کے لیے میں سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر کسی اور کی ہو جائے گی

ماہی کی تیمور سے شادی

 اس کے بعد ہی ڈرامے کی اصل کہانی شروع ہوتی ہے جو فرہاد کو چاہنے لگی ہے اسے افراد کی محبت پر یقین آ چکا تھا اب یہ ماہی کی بھابھی ہے جسے سارے معاملے کی خبر تھی مہینے تیمور کے رشتے سے انکار بھی کیا مگر کوئی بھی اس کی بات سننے کے لیے تیار نہیں وہ اپنی والدہ کو بتا دیں میں اتنی جلدی شادی نہیں کرنا چاہتی تھی اس کی والدہ بڑی سرکار نے اسے سمجھایا دھیرے سے رخصت ہونا ہوتا ہے میری دھی رانی اس کے بعد انکار کا کوئی جواز ہی نہیں بنتا تھا اب شادی کی تیاری شروع ہوتی ہے ماہی کے مایوں کی رسم شروع ہوئی ماہی کو ان خوشیوں کی کوئی پروا نہیں کی ہے وہ تو اس سے سچی محبت کرتا ہے مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا دیوانگی ہے تو دیوانگی ہی سہی پھر وہ مایوں کے دنوں میں طرح اس سے ملنے کی کوشش کرتی ہے وہ اپنے گھر سے جا رہی تھی کہ بھابھی اس کا ہاتھ پکڑ لیتی ہے ماہی یہ تم کیا کرنے جا رہی ہو اور تمہیں روتے روتے بے ہوش ہوجاتی ہے شادی ہونے کے بعد ہوئی تو ماہی کی والدہ دکھی ہو کر کہتی ہیں ہیں لگتا ہے ہر لڑکی کو ابھی تو اس نے اپنے آنگن میں دو پل ہی گزرے تھے کہ اس کی ڈولی اٹھانے والے آپہنچے کے بارے میں یا تو اس کی بھابھی جانتی ہے یا پھر ماہی کی دوست دوست ہماری کی شادی کا دن بھی آگیا جب بے صبری سے ماہ کا انتظار کر رہا تھا کہ شاید ماہی میرے پاس لوٹ آئے اور میری ہو جائے اگر ماہی کا فرہاد کے پاس جانا جیسے ناممکن سا ہو گیا ہوں وہی کی دوسروں کی بھابھی نے برات کا جوڑا پہنے کا کہا تو ماہی چلانے لگی وہ جذباتی ہو کر روتے ہوئے کہتی ہے مجھے کچھ بھی نہیں چاہیے اور اسی وقت وہ بارات کے جوڑے کو نیچے پھینک دیتی ہے اب ماہی بالکل بے بس ہو چکی ہے جبکہ دوسری جانب ماہی کی برسات بھی آ چکی ہے یہ بارات کوئی عام نہیں بلکہ ایک وی آئی پی برات ہوگی ایک طرف ملتان کے انگار جبکہ دوسری طرف بہاولپور کے شاہ صاحب پر پورا اتر سکے تیاری کمال کی ہو گی ماہرین جوڑا تو پہن لیا مگر جب اس کی والدہ اور بھائی بھی اس کے پاس آئی تو تمہیں اپنا سارا غصہ ملازمہ پر نکال دیتی ہے ہے ہے والدہ بھی ہو جاتی ہیں ہو سکتا ہے اس وقت ان کے ساتھ سامنے ساری حقیقت کھل گئی ہو اب یہ دیکھتے دیکھتے ماہ کی شادیاں قدموں سے کروا دی جاتی ہیں اب ان دونوں کا نکاح ہوچکا ہے

فرہاد کا ماہی کے گھر سے دربار تک کا سفر

 اور ادھر فرہاد کا سفر شروع ہو چکا ہے وہاں اس انتظار میں تڑپ رہا ہے یہاں سے چلا جاتا ہے شاہ صاحب اپنے بندوں کے ساتھ اس کا پیچھا کرتے ہیں اور فرہاد ان سے چھپ کر اپنی جان بچا تا ہے ہمارا ذکر سے رخصت ہوکر تیمور کی حویلی میں آ جاتی ہے اور ہاں دربدر بھٹک رہا ہے اور تباہی کے پیچھے ملتان بھی آ جاتا ہے ملتان کے دربار میں کر لیا اور آج بھی دربار میں آیا تو وہ باباجی پہلے ہی جانتے تھے کہ یہ حالت دیکھ کر بابا جی بھی تڑپتے ہیں کیونکہ وہ اسے جانتے ہیں اس وقت پر کیا بیت رہی ہے بابا جی واہ اسے کہتے ہیں مجھے پتا تھا یا پھر کوئی لہولہان ہو کر آئے گا 
  فرہاد کی والدہ کی تڑپ اور ناہید کی شادی وہی افراد پر بھی اس کی یاد میں تڑپ رہی ہے خاص طور پر ان کے چچا کی بیٹی جو فرہاد کا انتظار کرتی رہ گئی مگر فرہاد واپس نہیں آتا وہ اس سے بے پناہ محبت کرتی ہے اور یوں اُس کے ماں باپ اپنی بیٹی ناہید کا رشتہ کر دیتے ہیں اس کی مایوں بھی ہوتی ہے تو فرہاد کی والدہ کو دیکھ کر جذباتی ہو گئی ماہی اور فرہاد کا کیا بنا ماہی جسکی شادی تیمور سے ہوگئ مگر جب اسے علم ہوتا ہے کہ افراد اس کے پیچھے اس کے شہر بھی آگیا تو ماہی تڑپ کر اور بھی دکھی ہو جاتی ہے کہ یہاں سے چلا جائے اگر وہ نہ گیا تو میں ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہو جاؤ گی پھر ڈرامے میں اس وقت ٹویسٹ آتا ہے جب ماہی کے شوہر کا انتقال ہوجائے گا تب جاکر تیمور کی والدہ کو  اندازہ ہوتا ہے کہ  جو کچھ بابا  جی مجھے اشاروں میں سمجھانا چاہتے تھے وہ سب کچھ یہی تھا تیمور کا انتقال ہو جاتا ہے اگر کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی فرہاد اور ماہی کی جدائی ہی بڑھتی چلی گئی 

ماہی کی دربار پر فرہاد سے ملاقات

ماہی تو اپنی ساس کے ساتھ دربار پر جاتی آتی۔ اس کی ملاقات طرح اس سے بھی ہوتی۔ پہلے تو فرہاد کی یہ حالت دیکھ کر حیران ہوئی۔ اس نے معافی بھی مانگی۔ جبکہ دوسری طرف تیمور کا بڑا بھائی سکندر جو کہ محبت کرنے لگا ہے ایک ناچنے والی سے۔  رومانہ بھی سچے دل سے اندر سے محبت کرتی ہے۔ مگر یہ معاشرہ کسی لڑکی کو آسانی سے قبول کرنے والا نہیں۔ جس کے بعد وہ کر لیتے ہیں نکاح ۔ ماہی تیمور کی بیوہ بن کر زندگی گزارےگی یا اس کی شادی سکندر سے ہی کر دی جائےگی مگر اس سب کے بعد بھی ماہی نارمل نہیں ہوتی۔ نا تو اس نے کبھی تیمور کو قبول کیا تھا نہ ہی اس گھر میں اپنی زندگی کو قبول کرتی ہے۔ 


 وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ فرہاد نے بابا کی جگہ لے لی۔ وہ باباجی جس کے سکندر کی ماں کو چاہتے تھے۔ ان کا انتقال ہو جائے گا اور فرہاد ان کے رتبے پر آجائے گا۔ لوگ اسے چاہنے لگے اور اس کی باتیں بھی سچ ہونے لگیں گی۔ اب یہی ماہی کی محبت نے فرہاد کو اپنے خالق سے ملا دے گی۔ وہ اللہ سے ماہی کو مانگتا ہے اور اللہ نے اس کی دعاؤں میں اوروں کے لئے تاثیررکھ دی۔ فرہاد کا رتبہ اتنا بڑھ جاتا ہے کہ ماہی اس سے خوف کھانے لگی۔ اس کا یہ روگ مجھے ڈر لگتا ہے اس کی بددعا سے۔ لوگ اپنے دربار میں فرہاد سے دعا کروانے لگے۔ رومانہ ک بھی فرہاد کے پاس آنا جانا لگا رہتا ہے۔ تو  ایک دن سکندر بھی یہاں پر آجاتا ہے ۔سنا ہے میں نے کچھ اور بھی بیمار ہیں جو اپنے طبیب کی تلاش میں یہاں پر چلے آتے ہیں ہیں اگر ایسی کیا شفا ہے تمہارے پاس۔ تو پھر فرہاد سکندر سے کہتا ہے کاش میرے پاس کوئی شفا ہوتی میں تو خود کسی کی شفا کی طلب میں کب سے دربدر بھٹک رہا ہوں ۔ ماہی  یہاں پر آنا جانا لگا رہتا ہے مگر آج بھی وہ فرہاد کی حالت دیکھ کر اس کے آگے ہاتھ جوڑتی ہے۔ لیکن سکندر کی والدہ نے فرہاد اور اس کے کچھ دوستوں کو دعا کے لئے گھر بلایا۔ فرہاد کی ملاقات پھر سے ماہی سے ہوتی ہ۔ے وہ تو  بس کو مسکراتے لبوں سے ماہی کو دیکھتا ہے ۔ ماہی پھر سے تڑپ کر رہ گئی۔ اسے دیکھ کر اسے وہاں سے لے جایا گیا۔ مگر وہ دل وہیں ہی چھوڑ گئی۔ کمرے میں جاکر زار و قطار رونے لگیں۔ 

  وقت گزرنے کے ساتھ سکندر کی والدہ رومانہ کو قبول کر لیں گےگے۔ رومانہ بھی اللہ کے قریب ہو جائے گی اور فرہاد  کے والدین کو خبر دی جاتی ہے ماہی کے والد کے دوست نثار صاحب انہیں وہاں جا کر اطلاع دیتے ہیں کہ فرہاد مر چکا ہے۔ جسے سننے کے بعد اس کی والدہ اسی وقت بے ہو ش ہوجائیں گی۔

آخری قسط

 اور  ماہی بھی اسے دیوانہ وار چاہتی ہے تبھی تو اس سے ملنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں اس بات کو نہیں مانتا سکندر اور اس کی والدہ اس بات کے لئے راضی تھے اور وہ خود ہی سے ملوانے کے لیے جانے والے تھے ہے اگر اس نے باہر قدم رکھا تو بس اس کی جان لے لوں گا ۔ماہی  کی والدہ اپنے بیٹے کی اس حرکت پر حیران تھی۔ ابھی اپنی بہن کی جان لے گا ۔انہوں نے شاہ صاحب کے سامنے ہاتھ جوڑ لئے۔ ایک مجبور ماں اپی بیٹی کی زندگی مانگ رہی ہے آپ سے۔ سکندر کی والدہ کو تو کوئی اعتراض نہیں اور نہ ہی کسی اور کو۔ مگر  سکندر کی والدہ کسی بھی بات پر کان نہیں دھرتیں۔ اپنے بیٹے اور بہن کے ساتھ ماہی کو لے کر چلی جاتی ہے۔ تبھی ماہی کی فرہاد  پر نظر پڑی تو اس کی آنکھیں نم ہو گئیں اور وہ بھی مسکرانے لگا۔ اب تک اس کی محبت کو نہیں جان پائیں تو دعا کرنے لگا اگر میرے دل کی آواز اتنی بے اثر ہے تمہارے دل کو چھو نہیں سکتی تو اسے مر جانا چاہیے۔ یہ اب موت کی تمنا کرنے لگا مگر پھر بھی سمجھتی ہے جانتی ہے اور اللہ سے اپنے فرہاد کے لئے دعا کرئے گی ۔ محبت نے سبھی کو خدا کے قریب کردیا۔ یہی تو ہے خدا اور محبت ہو سکتا ہے لاسٹ ایپیسوڈ میں فرہاد کی موت ہوجا

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here